وہابی اور سنی صحیح العقیدہ مسلمان کسے کہتے ہیں | Wahabi aur Sunni sahihul Aqida Muslaman kise kahte hain

*وہابی اور سنی صحیح العقیدہ مسلمان کسے کہتے ہیں ؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علماے دین اس مسئلہ میں کہ وہابی ٫ گمراہ ٫ بدمذہب کی تعریف مع حوالہ جات و امثلہ پیش فرمائیں نیز سب کے احکام بھی ؟
الجواب بعون اللہ الملك الوہاب 
الھم ہدایۃ الحق والصواب
محمد بن عبد الوہاب نجدی کے متبع کو وہابی کہتے ہیں ـ کتاب التوحید عربی زبان میں ایک کتاب ہے اس کی تصنیف ہے ٫ جس میں اپنے خیالات و عقائد اس نے درج کیے اسی کا ترجمہ تقویت الایمان ہے جو مولوی اسماعیل دہلوی نے لکھی ہے ـ جو لوگ اس کتاب کے مطابق عقیدہ رکھتے اور اس کے مسائل کو صحیح و درست جانتے ہیں ٫ وہ سب وہابی ہے ـ


وہابی کسے کہتے ہیں اور ان کے احکام کیا ہیں 

محمد بن عبد الوہاب نجدی کے متبع کو وہابی کہتے ہیں ـ کتاب التوحید عربی زبان میں ایک کتاب ہے اس کی تصنیف ہے ٫ جس میں اپنے خیالات و عقائد اس نے درج کیے اسی کا ترجمہ تقویت الایمان ہے جو مولوی اسماعیل دہلوی نے لکھی ہے ـ جو لوگ اس کتاب کے مطابق عقیدہ رکھتے اور اس کے مسائل کو صحیح و درست جانتے ہیں ٫ وہ سب وہابی ہے ـ ہندوستان میں وہابیہ کی دو شاخیں ہیں ـ ایک جو اعتقادا اور عملاً ہر طرح محمد بن عبد الوہاب نجدی و مولوی اسماعیل دہلوی کے قدم بہ قدم ہیں ـ ان کو غیر مقلد کہتے ہیں - دوسرے وہ جو اعتقادا تو اسی کے ہم مشرب ہے اور فرعا حنفی ہیں ٫ ان کو دیوبندی کہتے ہیں ـ محمد بن عبد الوہاب و اسماعیل دہلوی کے عقائد کفریہ نہ تھے ـ اگر چہ بعض اقوال شان اسلام سے بہت گرے ہوئے ہیں مگر التزام کفر نہ ہونے کی وجہ سے محققین و محتاطین علماے کرام نے ان دونوں اور ان کے ہم خیالوں کی تکفیر نہ کی ٫ صرف گم راہ اور بدمذہب کہا ٫ جیسا کہ مطالعہ رسالہ الکوبۃ الشہابیہ سے واضح ہوگا ـ اس وہابیہ کی دوسری شاخ دیوبندی ہے ٫ اس نے اللّہ و رسول جل وعلا شانہ و رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں سخت توہین و تنقیص کے کلمات لکھے ٫ چھاپے جس کی وجہ سے علماے حرمین شریفین نے دیوبندی کی تکفیر فرمائی ـ مطالعہ ہو رسالہ مبارکہ حسام الحرمین ٫ ان دونوں شاخوں کے عقائد و خیالات رسالہ الاستمداد میں بحوالہ کتب وہابیہ جمع کردیے گئے ہیں اس کا ایک نسخہ بھیجتا ہوں ـ 
کافر کا یہ مطلب ہے کہ ضروریات دین میں سے کسی بات کا منکر ہے ـ اس شخص کو نئے سرے سے کلمہ پڑھ کر مسلمانوں میں شامل ہونا چاہیے اور اپنے عقائد و خیالات سے بری ہونا چاہیے ـ اور بدمذہب کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص دائرہء اسلام میں ہے مگر اپنے اس خیالات کے مطابق عقیدہء اہل سنت نہیں ـ اسے اپنے خیالات سے توبہ کرنا چاہیے ـ 
وہابیوں بلکہ تمام بدمذہبوں سے میل جول رکھنا شرعاً ناجائز ہے قال تعالی "وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ( انعام 68 ) اور جو کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ "( کنزالایمان)

( فتاویٰ ملک العلما صفحہ 229)

ابنِ عبد الوہاب نجدی کے کفریات ایسے نہیں کہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ کافر ہو ـ البتہ گنگوہی ٫ تھانوی کے کفریات ایسے ہیں کہ ان پر مطلع ہونے کے بعد جو ان کے کفر میں شک کرے گا وہ کافر ہے ـ ( فتاویٰ شارح بخاری جلد سوم صفحہ 507 ) 

سنی اور دیوبندی میں فرق 

جو لوگ فتاویٰ حسام الحرمین ٫ الصوارم الہندیہ ٫المعتقد المنتد اور المستند المعتمد فتاویٰ رضویہ ٫ بہار شریعت ٫ خزائن العرفان وغیرہ اہل سنت کی تصنیفات کے مطابق عقیدہ رکھتے ہوں وہ سنی مسلمان ہیں اور جو لوگ علماے دیوبند رشید احمد گنگوہی ٫ محمد قاسم نانوتوی ٫ خلیل احمد امبیٹھوی ٫ اشرف علی تھانوی کے ہم عقیدہ ہوں ان کو اپنا امام و پیشوا مانے وہ دیوبندی ہے ـ
( فتاویٰ شارح بخاری جلد سوم صفحہ 148/149) 

وہابیوں کے چار شاخیں ہیں ٫ ایک غیر مقلد ٫ دوسرے دیوبندی ٫تیسرے ندوی ٫ چوتھے مودودی ـ یہ چاروں اپنے بنیادی عقائد میں متفق ہیں ـ یہ چاروں مولوی اسماعیل دہلوی مصنف تقویت الایمان اور ابن عبد الوہاب نجدی کی کتاب التوحید کے مصنف کو اپنا مقتدیٰ و پیشوا مانتے ہیں ـ چند فروعی باتوں میں آپس میں اختلاف رکھتے ہیں یہاں وہ بھی دکھاوے کے لیے ـ غیر مقلدین کا مرکز اس وقت دہلی اور بنارس ہے ـ دیوبندیوں کا مرکز دیوبندی ٫سہارن پور ٫ ڈھابیل ہے ٫ ندویوں کا مرکز ندوۃ العلما ہے ٫ مودودی کا مرکز دہلی و رام پور میں ہے 

( فتاویٰ شارح بخاری جلد سوم صفحہ 262) 

*کیا مطلقاً ہر دیوبندی کافر ہے ٫ دیوبندی کسے کہتے ہیں*. ؟
 *پھر جو لوگ خود کو دیوبندی کہتے ہیں مگر علماے دیوبند کی کفری عبارت سے واقف نہیں ان کا کیا حکم*.؟ 
 حضور شارح ںخاری فقیہ الہند حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمتہ اللہ علیہ دیوبندیوں کے اکابر اربعہ کی گستاخی گنوانے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں: 
اسی بنا پر یہ چاروں تو کافر ہیں ہی ان کے علاوہ جو بھی ان چاروں کے ان مذکورہ بالا کفریات میں سے کسی ایک پر قطعی حتمی طور پر مطلع ہو اور انھیں مسلمان جانے ٫ کافر نہ کہے تو وہ بھی کافر ہے ـ اور یہی علماے عرب و عجم حل و حرم ٫ ہندو سندھ کا فتویٰ ہے جو " حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ" میں بار بار چھپ چکا ہے ـ اب دیوبندی وہ ہے جو ان چاروں کے مذکورہ بالا کفریات پر قطعی یقینی مطلع ہو پھر بھی ان چاروں کو یا ان چاروں میں سے کسی ایک کو اپنا پیشوا مانے یا کم از کم مسلمان جانے کافر نہ جانے نہ کہے ایسے لوگوں کی نماز جنازہ پڑھنی یا دعاے مغفرت کرنی بد بنائے مذہب صحیح کفر ہے ـ اور دیوبندیوں سے میری مراد فتویٰ نمبر: 1353 میں ایسا ہی شخص ہے ـ بلکہ علماے اہل سنت جب دیوبندی بولتے ہیں تو ان کی مراد دیوبندیوں سے ایسا ہی شخص ہوتا ہے - رہ گئے وہ لوگ جو ان چاروں کے کفریات میں سے کسی ایک پر بھی مطلع نہیں انھیں قطعی یقینی اطلاع نہیں وہ صرف دیوبندی ٫ مولویوں کی ظاہری ٫ اسلامی صورت ٫ ان کی نماز روزوں کو دیکھ کر انھیں عالم ٫ مولانا جانتے ہیں ان کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں ـ معمولات اہل سنت کو بدعت و حرام جانتے ہیں ـ وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں اور ان کا یہ حکم نہیں اگر چہ وہ اپنے آپ کو دیوبندی کہتے ہیں ٫ اور دوسرے لوگ بھی ان کو دیوبندی کہتے ہوں ٫ جیسے قادیانی ہیں کہ حقیقت میں ختم نبوت کا انکار کرنے کی وجہ سے کافر ہیں ـ مگر عرف عام میں بے پڑھے لکھے لوگ گورنمنٹ کے کاغذات پر ان کو مسلمان کہتے اور لکھتے ہیں ـ عوام کا حکم مدار حکم نہیں ـ حکم کا دارو مدار حقیقی معنی پر ہے ـ اس لیے ایسا شخص جو اپنے آپ کو دیوبندی کہتا ہو لوگ بھی اس کو دیوبندی کہتے ہوں ٫ وہ ان چاروں علماے دیوبند کو اپنا مقتدیٰ و پیشوا بھی مانتا ہو حتی کہ اہل سنت کو بدعتی بھی کہتا ہو مگر وہ ان چاروں کے مذکورہ بالا کفریات پر مطلع نہیں تو وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں اس کا یہ حکم نہیں کہ یہ شخص کافر ہے یا اس کی نماز جنازہ پڑھنی کفر ہے ـ 
( فتاویٰ شارح بخاری جلد دوم صفحہ 388/ 389) 

سنی کی تعریف 

" سنی وہ لوگ ہیں جو ما انا علیہ و اصحابی کا مصداق ہو ـ یہ وہ لوگ ہیں جو خلفاے راشدین ٫ ائمہ دین ٫ مسلم مشائخ طریقت ٫ اور متاخر علماے کرام میں سے حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی ٫ ملک العلما حضرت بحر العلوم فرنگی محلی ٫ حضرت مولانا فضل حق خیرآبادی ٫ حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی ٫ حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین مجددی رام پوری اور حضرت مولانا شاہ احمد رضا صاحب بریلوی کے مسلک پر ہوں رحھم اللّٰہ تعالیٰ علیہم 
( ص 9 الفقہ امر تسر 21 اگست 1945ء) 

گمراہ کی تعریف 

ضروریات مذہب اہل سنت و جماعت: ان کا ثبوت بھی دلیل قطعی سے ہوتا ہے ـ مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایک نوع شبہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے اسی ان کا منکر کافر نہیں گمراہ ٫ بدمذہب بددین کہلاتا ہے ـ 

( فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 386 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) 

ہر وہ وہابی جو میلاد ٫ قیام ٫ نیاز ٫ فاتحہ وغیرہ کو حرام و بدعت بتائے وہ گم راہ ضرور ہے اور گم راہوں سے میل جول حرام ـ وہ دیوبندی جو اپنے اساطین کے کفریات پر مطلع نہیں وہ اگر چہ کافر نہیں ہے مگر گم راہ ضرور ہے ـ اس لیے ان سے میل جول ٫ سلام و کلام ٫ لین دین حرام و گناہ ہے ـ ( فتاویٰ شارح بخاری جلد سوم صفحہ 213)

ہر دیوبندی گمراہ بددین ہے 

ایک سوال کے جواب میں شارح بخاری علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: ہر دیوبندی خواہ وہ جاہل ہو یا مولوی کم از کم گمراہ بددین٫ اہل سنت سے خارج ضرور ہے ـ ہر دیوبندی سنیوں کو گمراہ نہ جانتا ٫ حق پر جانتا تو دیوبندی کیوں رہتا اور جو بدمذہب گمراہ ہوں ان کے امام بنانا گناہ ان کے ہی نماز پڑھنی مکروہ تحریریمی واجب الاعادہ ان سے میل جول سلام ق کلام حرام و گناہ حدیث میں ہر بدمذہب کے لیے فرمایا گیا : إیاکم و إیاھم لا یضلونکم ولا یفتنونکم۔
ترجمہ :تم ان سے دور رہو، ان کو اپنے سے دور کرو، کہیں وہ تمھیں گم راہ نہ کر دیں، کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔

اور فرمایا:لا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تؤ اکلو ھم ولا تناکحوھم'' ترجمہ نہ ان کے ساتھ اٹھو بیٹھو ٫نہ ان کے ساتھ کھاؤ پیو 
( فتاویٰ شارح بخاری جلد سوم کتاب العقائد 234)

بد مذہبوں کے پاس بیٹھنا کیسا ؟ 
عرض: اکثر لوگ بدمذہبوں کے پاس جان بوجھ کر بیٹھتے ہیں ـ ان کے لیے کیا حکم ہے ؟ 
ارشاد: حرام ہے اور بدمذہب ہوجانےکا اندیشہ کامل اور اور دوستانہ ہو تو دین کے لیے زہر قاتل ـ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ایاکم و ایاھم لا یضلونکم ولا یفتنونکم ترجمہ: انھیں اپنے سے دور کرو اور ان سے دور بھاگو وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمھیں فتنے میں نہ ڈالیں ـ 
اور اپنے نفس پر اعتماد کرنے والا برے کذاب پر اعتماد کرتا ہے " انھا اکذب شیئ ءاذا خلقت فکیف اذا وعدت" ( نفس اگر کوئی بات قسم کھا کر کہے تو سب سے بڑھ کر جھوٹا ہے نہ کہ خالی وعدہ کرے ) صحیح حدیث میں فرمایا: جب دجال نکلے گا ٫ کچھ اسے تماشا کے طور پر دیکھنے جائیں گے کہ ہم اپنے دین پر مستقیم (یعنی قائم )ہیں ہمیں اس سے کیا نقصان ہوگا ؟ وہاں جاکر ویسے ہی ہو جائیں گے ـ حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں حلف سے کہتا ہوں جو جس قوم سے دوستی رکھتا ہے اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا ( مستدرک علی الصحیحین کتاب الھجرۃ ذکر اسماء لعل الصفۃ الحدیث ـ435 جلد 3 صفحہ 556)

سید عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہمارا ایمان اور پھر حضور کا حلف ( یعنی قسم ) سے فرمانا ـ دوسری حدیث میں ہے:" جو کافروں سے محبت رکھے گا وہ انھیں میں سے ہے ـ 

بدمذہبوں کے پاس بیٹھنے والے کو مرتے وقت کلمہ نصیب نہ ہوا 

امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللّٰہ علیہ " شرح الصدور" میں نقل فرماتے ہیں: ایک نیک شخص روافض کے پاس بیٹھا کرتا تھا ـ جب اس کی نزاع کا وقت آیا ٫ لوگوں نے حسب معمول اسے کلمہ طیبہ کی تلقین کی ـ کہا : نہیں کہا جاتا ـ پوچھا کیوں ؟ کہا : یہ دو شخص کھڑے کہ رہے ہیں تو ان کے پاس بیٹھا کرتا تھا جو ابوبکر و عمر ( رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما) کو برا کہتے تھے ٫ اب یہ چاہتا ہے کہ کلمہ پڑھ کر اٹھے ٫ ہرگز نہ پڑھنے دیں گے ـ ( شرح الصدور بشرح حال الموتی والقبور باب ما یقول الانسان صفحہ 38) 
یہ نتیجہ ہے بدمذہبوں کے پاس بیٹھنے کا ـ جب صدیق و فاروق رضی اللّٰہ عنہما کے بدگویوں ( یعنی برا کہنے والوں) سے میل جول کی یہ شامت ہے تو قادیانیوں اور وہابیوں اور دیوبندیوں کے پاس نشست و برخاست ( یعنی اٹھنے بیٹھنے) کی آفت کس قدر شدید ہوگی ؟ ان کی بدگوئی صحابہ تک ہے اور ان کی انبیا اور سید الانبیا صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور اللّہ عزوجل تک - 
( ملفوظات اعلی حضرت حصہ اول صفحہ 277 مطبوعہ مکتبہ المدینہ)

ہر دیوبندی گمراہ و بدمذہب ہے اس لیے ان سے میل جول رکھنا ان کو سلام کرنا ان کے ساتھ کھانا پینا اس کے یہاں شادی وغیرہ کرنا ان کے جنازہ میں شامل ہونا سب ناجائز و گناہ ہے 
واللہ اعلم باالصواب والیہ المرجع والمآب
کتبہ: محمد مشرف علی قادری مجددی تیغی مظفر پور بہار انڈیا 
الجواب صحیح  
محمد ثناء اللہ خان ثناءالقادری مرپاوی سیتا مڑھی بہار

Post a Comment

0 Comments