آج کے ہندوستان میں وندے ماترم کے حوالے سے ایک بار پھر گرم مباحث جاری ہیں۔ حکومت اور میڈیا اسے حب الوطنی کی علامت قرار دے کر سب پر لازم ٹھہرانا چاہتے ہیں، مگر کیا یہ نعرہ واقعی محض وطن دوستی کی علامت ہے؟
مولانا غلام مصطفےٰ نعیمی ہاشمی (روشن مستقبل، دہلی) اس تحقیقی مضمون میں واضح کرتے ہیں کہ وندے ماترم دراصل ہندو مذہبی عقائد پر مبنی گیت ہے، جس میں دیوی درگا کی پرستش پائی جاتی ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے یہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیا کوئی مسلمان حب الوطنی کے نام پر ایسا ترانہ پڑھ سکتا ہے جس میں شرک کے مضامین موجود ہوں؟
یہ مضمون اسی سوال کا مدلل، علمی اور غیر جذباتی جواب پیش کرتا ہے۔
وندے ماترم اور اسلامی نظریہ
غلام مصطفےٰ نعیمی ہاشمی
روشن مستقبل دہلی
ان دنوں ہمارے ملک میں وندے ماترم کو لے کر گرما گرم بحثیں جاری ہیں۔بحثوں کا سلسلہ پارلیمنٹ سے لے کر میڈیا چینلوں اور مذہبی اداروں تک چل رہا ہے۔بحث و مباحثے کی وجہ یہ ہے کہ اس گیت کو لکھے ہوئے 150 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ جس کی بنیاد پر حکومت ہند نے اس گیت کو عوامی سطح پر مقبول بنانے کے لیے مختلف تقریبات کےانعقاد کا فیصلہ لیا ہے۔پارلیمنٹ میں ۸؍دسمبر کواس گیت کے متعلق دس گھنٹے کا سیاسی مباحثہ بھی رکھا گیا۔حکومتی ادارے اس گیت اور اس کے مصنف کے متعلق لوگوں کی ذہن سازی کے پروگراموں میں مصروف ہیں۔حکومت اور میڈیا ہاؤس اس گیت کو حب الوطنی سے جوڑ کر ہر شخص پر تھوپنےکی پر زور کوشش کر رہے ہیں۔ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ جس نے یہ گیت نہیں گایا اس کی حب الوطنی مشکوک ہے یا وہ اپنے ملک سے محبت ہی نہیں کرتا۔ایسےماحول میں ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اس گیت کے متعلق اسلامی احکام کو واضح کریں تاکہ مسلمانوں پر اس گیت کی تفصیلات علم میں رہیں۔اسی کے مطابق عمل کریں اور معترضین کا تشفی بخش جواب بھی دے سکیں۔
کیا ہے وندے ماترم؟
وندے ماترم بنگلہ زبان میں لکھا ہوا ترانہ ہے۔اسے بھارت کا قومی گیت بھی تسلیم کیا گیا ہے۔یہ ترانہ بنگلہ زبان کے شاعر بنکِم چندر چٹوپادھیائے نے لکھا ہے۔یہ ترانہ پہلی مرتبہ سات نومبر 1875 کو بنگ درشن نامی ماہانہ رسالے میں شائع ہوا۔اس رسالے کے بانی اور ایڈیٹر بنکم چندر ہی تھے۔بنکم چندر نے سن 1882 میں آنند مَٹھ نامی ایک ناول تحریر کیا تھا۔ اس میں بھی مذکورہ ترانہ شامل تھا۔ناول بنیادی طور پر مسلم دشمنی پر مبنی ہے۔اسی ناول کے ایک حصے میں کچھ افراد اپنی دیوی درگا کی مورتی کے آگے یہ ترانہ پڑھتے ہیں۔اشاعت کے اکیس سال بعد کلکتہ میں کانگریس پارٹی کا سیاسی کنونشن منعقد ہوا۔اس کنونشن میں پہلی مرتبہ روندر ناتھ ٹیگور نے اس ترانے کو گایا۔جس کے بعد یہ ترانہ بنگال میں اور بعدہ ملک بھر میں پھیل گیا۔کانگریس نے اس ترانے کو سیاسی طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔جب اس گیت کو قومیت کی علامت بنا کر پیش کیا جانے لگا تو روندر ناتھ ٹیگور نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے سن 1937 میں سبھاش چندر بوس کو ایک خط لکھا کہ:
"وندے ماترم کا بنیادی عقیدہ دیوی درگا کی پرستش ہے اور یہ اتنا واضح ہے کہ اس پر کسی قسم کی بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بیشک بنکم نے درگا کو متحدہ بنگال کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا ہے مگر کسی مسلم سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ حب الوطنی کے نام پر دس ہاتھوں والی درگا کی عبادت کرے۔"(بحوالہ: روندر ناتھ کے منتخبہ خطوط، مطبوعہ کیمبریج یونیورسٹی)
یعنی اس گیت کو پڑھنے کے باوجود روندر ناتھ ٹیگور بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ اس گیت کی بنیاد ہندو دھرم کے عقیدے پر رکھی ہوئی ہے۔اس لیے قومیت اور وطنیت کی بنیاد پر کسی مسلمان کا اسے پڑھنا درست نہیں ہوگا۔اس لیے انہوں نے اس پر نقطہ نظر واضح کر دیا کہ مسلمانوں کو اسے پڑھنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
آزادی کے بعد دستور ساز کمیٹی میں ملک کے قومی ترانے کو لیکر مباحثہ ہوا تو کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ وندے ماترم کو بھارت کا قومی ترانہ مقرر کیا جائے اور کچھ لوگوں کا رجحان "جن من گن" کی جانب تھا۔بحث ومباحثہ کے بعد جن من گن کو بھارت کا قومی ترانہ تسلیم کر لیا گیا۔مگر چونکہ وندے ماترم کے حامیوں کی تعداد بھی اچھی خاصی تھی اور یہ گیت عرصہ دراز سے ہندو عوام میں مستعمل تھا اس لیے اس کے ابتدائی اشعار کو قومی گیت کا درجہ دے دیا گیا۔
وندے ماترم کا مفہوم کیا ہے؟
ان دنوں ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جیسے وندے ماترم ہی حب الوطنی کا پہلا اور آخری سرٹیفکیٹ ہے۔اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ پہلے ہم اچھی طرح وندے ماترم کے مفہوم ومطلب کو جان لیں ۔وندے ماترم بنگلہ زبان کا ترانہ ہے، ہم اس کے چند اشعار کا اردو ترجمہ نقل کرتے ہیں:
🔸"اے ماں! میں تیری عبادت کرتا ہوں۔جو اچھے پانی، پھلوں اور فصلوں سے بھرپور ہے۔جس کی ہوا جنوبی پہاڑوں سے آنے والی ٹھنڈی اور بھینی بھینی خوشبو کی طرح ہے۔جس کی دھرتی ہری بھری فصلوں سے لہلہا رہی ہے۔اے ماں! میں تیری عبادت کرتا ہوں۔
🔹وہ جس کی رات کو چاند کی روشنی زینت دیتی ہے۔وہ جس کی زمین کھلے ہوئے پھولوں سے،سجے ہوئے درختوں سے مزین ہے۔ہمیشہ ہنسنے والی،میٹھی زبان بولنے والی،راحت دینے والی،برکت دینے والی ماں!میں تیری عبادت کرتا ہوں۔
🔸اے میری ماں! تیس کروڑ لوگوں کی پرجوش آوازیں، ساٹھ کروڑ بازو میں سمیٹنے والی تلواریں ، کیا اتنی طاقت کے بعد بھی تو کمزور ہے۔
🔹اے میری ماں! تو ہی میرے بازو کی قوت ہے، میں تیرے قدم چومتا ہوں۔
🔸اے میری ماں ، تیری ہی محبوب مورتی مندر میں ہے ، تو ہی درگا، دس مسلح ہاتھوں والی، تو ہی کملا ہے، تو ہی کنول کے پھولوں کی بہار ہے ، تو ہی پانی ہے، تو ہی علم دینے والی ہے۔
وندنا کااستعمال اور ہندو میتھالوجی
اس گیت میں لفظ "وندے" بار بار آتاہے۔یہ لفظ "وندنا" کے معنی میں ہے۔ وندنا کے ہندی لغات میں درج ذیل معانی لکھے گیے ہیں:
1؍پوجا کرنا۔2؍غایت درجہ عقیدت کا اظہار کرنا۔3؍پرارتھنا[دعا]کرنا۔4؍پرنام[سلام]کرنا۔
درج بالا معانی سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ لفظ وندے مشترک لفظ ہے، لیکن یہاں بات ذہن نشین رہے کہ مذکورہ سبھی معانی صرف لفظاً ہی مختلف ہیں حقیقتاً سبھی ایک بنیادی معنی دیتے ہیں اور وہ معنی خود کو کمترین اور سامنے والےکو معظم ترین ماننا۔جیسے بندہ اپنے آپ کو خدا کے سامنے کمترین اور اپنے خدا کو معظم ترین مانتا ہے۔اسی لیے ہندو دھرم میں اپنے دیوی دیوتاؤں کے لیے لفظ وندنا بہ کثرت استعمال ہوتا ہے۔مثلاً انہیں اپنے دیوتا شو(शिव) کی پوجا کرنا ہوتی ہے تو اس کے لیے شو وندنا (शिव वंदना) کا استعمال کرتے ہیں۔درگا دیوی کے لیے درگا وندنا (दुर्गा वंदना) سرس وتی دیوی کے لیے سرس وتی وندنا (सरस्वती वंदना) غرضیکہ اپنے ہر دیوی دیوتا کے لیے لفظ وندنا ہی کا استعمال کرتے ہیں۔کبھی وہ اس سے بھگوان کی پوجا مراد لیتے ہیں۔کبھی بھگوان سے پرارتھنا کرنا اور کبھی اپنے بھگوان کی غیر معمولی تعریف کرنا۔بہر طور یہ لفظ دیوی دیوتاؤں ہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہاں کبھی کبھار لفظ وندنا انسانوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے کسی کے پاؤں چھونے کے لیے چرن وندنا (चरण वंदना) استعمال ہوتا ہے۔ہندو سماج میں بڑے بزرگوں (ماں باپ، استاذ وغیرہ)کے پاؤں چھونے کو چرن وندنا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔لیکن یہ لفظ بھی حقیقتاً دیوی دیوتاؤں کے تصور ہی کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔ہندو آستھا کے مطابق ماں باپ اور استاذ (गुरु) بھگوان کا روپ ہوتے ہیں اس لیے وہ لوگ ماں باپ اور استاذ کو بھگوان روپ مان کر ان کی چرن وندنا یعنی دیوتا کا غایت درجہ احترام کرتے ہیں۔
اس تفصیل سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ ہندو دھرم میں لفظ وندنا محض تعریف یا سلام کرنے کے لیے استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس کا عمومی اور خصوصی استعمال اپنے دیوی دیوتاؤں اور دیوی دیوتا روپی معظم افراد کے لیے کیا جاتا ہے۔صرف تعریف کے لیے لفظ پرشنسا(प्रशंसा )
سراہنا (सराहना ) وشیشتا (विषेशता) جیسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔
ہندو دھرم میں بھارت ایک دیوی ہے
ہندو سماج میں بھارت کو ایک دیوی مانا جاتا ہے۔اس حوالے سے وید اور والمیکی راماین کے حوالے بھی دئے جاتے ہیں۔جن میں بھارت کی زمین کو دیوی اور پالنہار مانا گیا ہے۔علامتی مورتی بھی استعمال ہوتی ہے۔ملک کے مختلف حصوں میں "بھارت ماتا"کے مندر بھی بنے ہوئے ہیں۔جنگ آزادی کے عظیم رہنما شری موہن داس گاندھی نےسن 1936 میں بنارس میں بھارت ماتا مندر کا افتتاح کیا تھا۔اس مندر کو شو پرساد گپتا نے بنوایا تھا۔سن 1973 میں بھارت ماتا کا مندر ہری دوار میں بنایا گیا۔جنوری 2017 میں اجین میں بھارت ماتا مندر کا افتتاح کیا گیا اور سال 2024 میں بھارت کے وزیر اعظم نے بھارت ماتا کے احترام میں خصوصی طور پر سو روپے کا سکہ جاری کیا جس پر بھارت ماتا کی تصویر بنی ہوئی ہے۔
مذکورہ تفصیل سے واضح ہے کہ بھارت جو ہمارا وطن ہے وہ ہمارے ہم وطن ہندوؤں کے لئے صرف وطن نہیں بل کہ دیوی کے درجے میں ہے۔اس لیے اظہار محبت کے طور پر ان کا بھارت کو دیوی کہنا،اس کی پوجا کرنا، اس کی پالہناری کے نعرے لگانا ان کے دھرم کے مطابق ہے لیکن ایسا کرنا کسی بھی طور پر ایک مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کیوں کہ ہمارے یہاں خداوند قدوس کے علاوہ کسی کو خدائی میں شریک ماننا جائز نہیں ہے۔
اسلام اور ہندو دھرم میں بنیادی فرق
اسلام بنیادی طور پر توحیدی مذہب ہے۔جسے ہندی زبان میں ایکیشورواد (एकेश्वरवाद ) کہا جاتا ہے۔یعنی ایک ہی خدا کی عبادت کرنا، اس کے سوا کسی کونہ ماننا۔کسی کو اس کی ذات وصفات میں شریک نہ کرنا۔ ہندو دھرم بنیادی طور پر شرک (बहुदेववाद) میں یقین رکھتا ہے، یعنی ایک سے زیادہ خداؤں ، دیوی دیوتاؤں کو ماننا۔یہی وہ بنیادی فرق ہے جو اسلام اور ہندو دھرم کے درمیان فرق اور امتیاز پیدا کرتا ہے۔ ہمارے یہاں اللہ کی معبودیت اور اس کی خدائی میں کسی پیغمبر کو بھی شریک نہیں کر سکتے۔جب پیغمبر تک کو اللہ کی خدائی میں شریک نہیں کیا جا سکتا تو کسی وطن یا ملک کو کس طرح اللہ کے برابر یا خدائی کے درجے میں شامل کیا جا سکتا ہے؟
اس کے برعکس ہندو دھرم میں چونکہ شرکت الوہیت کا عقیدہ پایا جاتا ہے اس لیے ان کا وطن کو خدائی کے درجے میں رکھنا، دیوی ماننا ان کے عقیدے کے اعتبار سے تو درست ہو سکتا ہے لیکن حب الوطنی کے نام پر وہ اسی عقیدے کو مسلمانوں پر لادنے کی کوشش کریں تو ایسا کرنا عقلاً درست ہے نہ قانوناً!اور اخلاقی اعتبار سے بھی ایسا کرنا کسی طور پر قرین انصاف نہیں ہے۔
جنگ آزادی اور حب الوطنی
وندے ماترم کے حامیوں کا زور اس بات پر زیادہ رہتا ہے کہ مذکورہ ترانہ جنگ آزادی کے انقلابیوں نے استعمال کیا ہے۔اسی کو آڑ بنا کر جذباتیت کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔
مگر ذرا ٹھہریں!
حب الوطنی اور انقلابیوں کے نام پر جذباتی فضا بنانےاور مسلمانوں سے مطالبہ کرنے والوں سے ہمارے کچھ سوالات ہیں:
🔹کیا جنگ آزادی کی ساری لڑائی ہندو سماج کے لوگوں نے لڑی تھی؟
🔸کیاجنگ آزادی میں دوسرے مذاہب کے لوگ نہیں تھے؟
🔹کیا جنگ آزادی خالص مذہبی بنیاد پر لڑی گئی تھی؟
یہ وہ سوالات ہیں جو ہر اس انسان کا منہ بند کر دیں گے جو جنگ آزادی اور انقلابیوں کا تذکرہ چھیڑ کر مسلمانوں کو دبانا چاہتا ہے۔اس کے علاوہ کچھ اہم نکات بھی ذہن نشین رکھیں جو معترضین کی زبان بندی کے لیے ضروری ہیں:
🔹جنگ آزادی کی ابتدا، اس گیت کے لکھنے سے پہلے ہی ہو چکی تھی۔یہ گیت 1875 میں لکھا گیا جب کہ آزادی کی پہلی لڑائی اس گیت سےاٹھارہ سال پہلے سن 1857ء میں لڑی گئی تھی۔اس وقت بنکم چندر محض انیس سال کے تھے اور کلکتہ کے انگریزی کالج میں پڑھائی کر رہے تھے۔
🔸پہلی جنگ آزادی کے قائدین میں مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر، جنرل بخت خان اور مولانا فضل حق خیرآبادی جیسے افراد تھے، تو ہندو سماج کی جانب سے رانی لکشمی بائی، تانتیا ٹوپے اور منگل پانڈے جیسے افراد بھی شریک جنگ ہوئے۔اس وقت تک وندے ماترم کا نام ونشان تک نہیں تھا تو ہندو انقلابی کس نعرے کا استعمال کرتے تھے؟
🔹یہ بات تاریخی حقائق کا حصہ ہے کہ جنگ آزادی میں اگر ہندو مذاہب کے لوگوں نے اپنی قربانیاں دی ہیں تو مسلمان مجاہدین بھی قربانی دینے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔بعد کے زمانے میں اگر کچھ انقلابی وندے ماترم کا نعرہ لگاتے تھے تومسلم مجاہدین آزادی "انقلاب زندہ باد" کے نعروں سے اپنا لہو گرماتے تھے۔
🔸ایک طرف بھگت سنگھ، چندر شیکھر، راج گرو، سکھ دیو اور سبھاش چندر بوس جیسے انقلابی نظر آتے ہیں تو دوسری جانب مولانا کفایت علی کافی، مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی، مولانا وہاج الدین، خان بہادر خان اور مولانا فضل حق خیرآبادی جیسے مجاہدین آزادی بھی وطن پر جان لٹاتے نظر آتے ہیں۔
🔹تاریخی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو جنگ آزادی کی ابتدا ہی مسلمانوں کی قیادت اور غلبے سے ہوئی۔ اس لیے حب الوطنی کے نام پر مسلمانوں پر اپنا مذہبی نعرہ یا ترانہ تھوپنا کسی طور پر بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔وطن سے محبت کے لیے ہمیں کسی ثبوت اور دلیل دینے کی ضرورت نہیں ہے، آج بھی کالا پانی جیل کے دروازے پر علامہ فضل حق خیرآبادی کی قبر ہماری حب الوطنی کی گواہ بنی ہوئی ہے۔
جذبہ ضروری یا الفاظ؟
حالیہ مباحثے میں سب سے عجیب وغریب بات یہ ہے کہ ساری گفتگو لفظوں پر ہو رہی ہے، جذبے پر سرے سے کوئی گفتگو ہی نہیں ہو رہی ہے۔جب کہ بنیادی بات یہ ہے کہ ہمیں جذبہ حب الو طنی پر بات کرنا چاہیے ناکہ اس پر کہ حب الوطنی کا اظہار کن لفظوں کے ذریعے کیا جائے گا؟
ہر انسان اپنی تہذیب اور اپنے مذہب کے مطابق ہی لفظوں کا استعمال کرتا ہے۔ہندو سماج حب الوطنی کا اظہار جن لفظوں کے ذریعے کرتا ہے وہ اس کی تہذیب کے مطابق ہوتے ہیں۔ مسلمان حب الوطنی کا اظہار ان لفظوں کے ذریعے کرتا ہے کہ جو ان کی اپنی تہذیب کے مطابق ہوتےہیں۔جذبہ دونوں کا ایک ہی ہے، اپنے وطن سے محبت، اپنے وطن کی حفاظت، اپنے وطن کی فلاح اور بہبودی کے لیے کام کرنا۔اس جذبے میں کوئی مسلمان کسی سے پیچھے ہے ، پیچھے تھااور نہ کبھی رہے گا!!
لیکن بات جذبے سے ہٹا کر لفظوں پر ڈال دی گئی ہے ۔اور حب الوطنی کے نام پر زبردستی اپنے الفاظ، اپنا عقیدہ مسلمانوں پر تھوپنے کی جو کوشش ہو رہی ہے وہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔حب الوطنی کے جذبے میں مسلمان کسی بھی ہندو سے کبھی پیچھے نہیں رہا اور نہ کبھی رہے گا۔ لیکن اگر زور اس بات پر ہو کہ حب الوطنی کا اظہار صرف انہی لفظوں کے ساتھ قابل قبول ہے جو ہندو آستھا کے مطابق ہو تو یہ بات سراسر غلط اور نا قابل قبول ہے۔ہمارا دو ٹوک موقف ہے کہ حب الوطنی میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔وطن کی حفاظت ساتھ مل کر انجام دیں گے لیکن حب الوطنی کے نام پر اگر آپ یہ چاہیں کہ مسلمان وطن عزیز کی مٹی کو دیوی مانیں، خدائی کے درجے میں شامل کر لیں یہ کسی بھی طور پر ممکن نہیں ہے۔ مسلمان کسی بھی طور پر کسی شخص، جگہ یا وطن کو ہرگز ہرگز اللہ تعالیٰ کی خدائی میں شریک نہیں کر سکتا۔
21 جمادی الآخرہ 1447ھ
13 دسمبر 2025 بروز ہفتہ

0 Comments