*آدم علیہ السلام کی قامت، ابلیس کا تکبر، اور کتے کی تخلیق*
*شاہ فیصل*
*موسی نگر، کان پور*
(د ی ہ ا ت)
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کی بلند قامت اور خوش نما صورت دیکھ کر فرشتے حیرت زدہ رہ گئے۔ ان کا قد پانچ سو گز کا تھا
ایک روز ابلیس بھی وہاں سے گزرا۔ اس نے آدم علیہ السلام کے وجود کو دیکھا تو حسد و تکبر نے اس کے دل میں جگہ بنا لی۔ اس نے اپنے ہاتھ سے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم پر مارا تو اسے کھوکھلا محسوس ہوا، پھر اس کے اندر داخل ہو کر دوسری جانب سے نکل آیا۔ اپنی جماعت (یعنی وہ ملائکہ جو اس کے تھے) سے اس نے طنزاً کہا:
یہ آدم کھوکلا پیدا کیا گیا ، یہ کسی بات پر ثابت قدم نہیں رہ سکے گا-
پھر اس نے فرشتوں سے پوچھا کہ اگر اسے تم سے افضل بنایا گیا تو کیا کروگے؟ انہوں نے کہا:
ہم اپنے رب کے حکم کی پیروی کریں گے۔
لیکن ابلیس کے دل کی حالت مختلف تھی۔ وہ اندر ہی اندر یہ ارادہ کر چکا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو فضیلت دی تو وہ کبھی بھی ان کی فرمانبرداری قبول نہیں کرے گا۔ تکبر اور نافرمانی کی وجہ سے اس نے حضرت آدم علیہ السلام کے مقام ناف پر اپنا تھوک ڈال دیا۔
اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ اس تھوک کو وہاں سے صاف کریں۔ جبرئیل علیہ السلام نے ناف کے حصے سے اس کو کرید کر نکال دیا، اور اسی وجہ سے انسان کی ناف میں گہرائی پائی جاتی ہے۔
جس مٹی کو جبرئیل علیہ السلام نے وہاں سے نکالا، اسی سے کتے کی تخلیق ہوئی۔ اس نسبت سے کتے میں تین خصلتیں پیدا ہوئیں:
١. انسان سے انسیت کیوں کہ وہ آدم علیہ السلام کی مٹی سے بنا۔
٢. رات کو جاگنے کی عادت کیونکہ اسے جبرئیل علیہ السلام کے لمس کا اثر ملا۔
٣. انسان کو کاٹنا اور شرارت کرنا یہ شیطان کی تھوک کا اثر ہے جو اس مٹی میں شامل ہوا۔
*یوں آدم علیہ السلام کی تخلیق، ابلیس کا تکبر، اور ایک جانور کی پیدائش تک سب اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے گہرے رازوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔*

0 Comments