Imam Ahmad Raza Khan Barelvi – Early Life, Knowledge and Spirituality

Ala Hazrat Early Life,  Imam Ahmad Raza Khan Barelvi,  Ala Hazrat Childhood Biography,  Spiritual Achievements of Ala Hazrat,  Islamic Scholar from India,  Ala Hazrat Intellectual Brilliance,  Imam Ahmad Raza Khan Early Years,  Ala Hazrat Spiritual Excellence,  Biography of Imam Ahmad Raza Khan,  Ala Hazrat Scholar of Islam,  Early Life of Islamic Scholars,  Sufi Saints of India,  Ala Hazrat Life History,  Imam Ahmad Raza Khan Legacy
Ala Hazrat Early Life, Imam Ahmad Raza Khan Barelvi, Ala Hazrat Childhood Biography, Spiritual Achievements of Ala Hazrat, Islamic Scholar from India, Ala Hazrat Intellectual Brilliance, Imam Ahmad Raza Khan Early Years, Ala Hazrat Spiritual Excellence, Biography of Imam Ahmad Raza Khan, Ala Hazrat Scholar of Islam, Early Life of Islamic Scholars, Sufi Saints of India, Ala Hazrat Life History, Imam Ahmad Raza Khan Legacy
_________________________________________________

تذکرہ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ


(1)‌6 سال کی عمر میں بہت بڑے مجمع کے سامنے پہلی تقریر 2 گھنٹے فرمائی

(2) آپ کے استاد نے پوچھا کہ تم آدمی ہو یا جِنّ کہ مجھ کو پڑھاتے دیر لگتی ہے مگر تم کو یاد کرتے دیر نہیں لگتی

(3) دستار فضیلت

(4) (۱)آپ نے ایک مسئلہ فرائض کا ۸ سال کی عمر میں تحریر فرمایا (۲) والد صاحب کی نظر آپ کے لکھے ہوئے حاشیہ پر پڑی تو ان کو بڑی مسرت ہوئی (۳) آپ نے وضو میں گٹوں تک ہاتھ دھونے،کلی کرنے،ناک میں پانی ڈالنے کی حکمت بتائی (٤) مولانا ارشاد حسین مجددی نے فرمایا فی الحقیقۃ وہی حکم صحیح ہے جو بریلی شریف سے آیا ہے۔

(5) مولانا سید دیدار علی نے عرض کی کہ یہاں آکر معلوم ہوا کہ یہاں کے خدمت گاروں کے بچے بھی مفتی ہیں

(6) حضرت سید آل رسول احمد قدس سرہ العزیز نے بیعت فرمایا اور اسی وقت تمام سلاسل کی اجازت بھی عطا فرمادی
(1)
آغاز نصیحت:

اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ چھ (٦) سال کی عمر شریف میں ربیع الاول کے مبارک مہینہ میں منبر پر رونق افروز ہوئے اور بہت بڑے مجمع کے سامنے سب سے پہلی تقریر فرمائی ۔ جس میں کم و بیش دو (٢) گھنٹے علم و عرفان کے دریا بہائے اور سرور کائنات صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم کے ذکر پیدائش کے بیان کی خوشبو سے اپنی زبان کو معطر فرمایا۔
(کرامات اعلٰی حضرت صفحہ 15)
(2)
تعلیم کا شوق:

اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی والدہ ماجدہ ارشاد فرماتی ہیں کہ اعلٰی حضرت نے پڑھنے میں کبھی ضد نہ کی۔ برابر پڑھنے کو جاتے بلکہ جمعہ کے دن بھی جانا چاہتے مگر والد ماجد کے منع کرنے سے رک جاتے شروع ہی سے آپ کا یہ عالَم تھا کہ استاد سے کبھی چوتھائی کتاب سے زائد نہ پڑھتے تھے یعنی چوتھائی کتاب استاد سے پڑھنے کے بعد بقیہ کتاب از خود یاد کر کے سنا دیا کرتے تھے۔ استاد جب سبق پڑھا دیا کرتے تو آپ ایک یا دو مرتبہ دیکھ کر کتاب بند کر دیا کرتے۔ ایک دن آپ سے استاد نے پوچھا کہ احمد میاں یہ تو کہو تم آدمی ہو یا جِنّ کہ مجھ کو پڑھاتے دیر لگتی ہے مگر تم کو یاد کرتے دیر نہیں لگتی ۔ اس کے بعد میزان منشعب جناب مرزا قادر بیگ صاحب سے پڑھیں
باقی کتب درسیہ تمام دینیات کی تکمیل اپنے والد صاحب سے کی ۔
(کرامات اعلٰی حضرت صفحہ 16)
(3)
دستار فضیلت:

 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی عمر شریف کا چودہواں سال تھا چودہ (١٤) شعبان المعظم سن ۱۲۸٦ ہجری کو سند و دستار فراغت حاصل فرمائی۔
اسی دن ایک رضاعت کا مسئلہ لکھ کر والد ماجد کی خدمت میں پیش کیا جواب بالکل صحیح تھا۔ والد ماجد نے آپ کی فراست و ذہانت دیکھ کر اسی دن سے فتوٰی نویسی کا کام آپ کے سپرد فرما دیا۔
(کرامات اعلٰی حضرت صفحہ 16)
(4)
خداداد علم:

(۱) اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے تو ایک مسئلہ فرائض کا آٹھ (۸) سال کی عمر شریف میں تحریر فرمایا ۔ والد ماجد گاؤں میں تشریف رکھتے تھے کہیں سے سوال آیا آپ نے جواب لکھا۔ جب والد صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تشریف لائے دکھایا گیا۔ ارشاد فرمایا معلوم ہوتا ہے مسئلہ امّن میاں نے لکھا ہےان کو ابھی نہ لکھنا چاہئے مگر ہمیں اس جیسا کوئی بڑا لکھ کر دکھائے تو ہم جانیں ۔
(کرامات اعلٰی حضرت صفحہ 16 -17)
(۲) شاید دس (۱۰) سال کی عمر شریف میں جب کہ اپنے والد ماجد صاحب سے مسلم الثبوت پڑھ رہے تھے کہ والد صاحب کا تحریر کردہ اعتراض و جواب پر نظر پڑی جو آپ نے مسلم الثبوت پر کیا تھا۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اس اعتراض کو رفع فرمایا اور متن کی ایسی تحقیق فرمائی کہ سرے سے اعتراض ہی وارد نہ ہوتا تھا۔ جب پڑھاتے وقت والد صاحب کی نظر اعلیٰ حضرت کے لکھے ہوئے حاشیہ پر پڑی اتنی مسرت ہوئی کہ اٹھ کر سینے سے لگا لیا اور فرمایا احمد رضا تم مجھ سے پڑھتے نہیں ہو بلکہ پڑھاتے ہو۔
(کرامات اعلٰی حضرت صفحہ 17)
(۳) اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ مسجد سے دولت کدہ پر تشریف لا رہے ہیں کہ ایک صاحب دور دراز کا سفر طے کرکے حاضر خدمت ہوئے اور عرض کی حضور ایک مسئلہ دریافت کرنے حاضر ہوا ہوں۔ فرمایا بیان کیجئے ۔ عرض کی حضور آرام سے تشریف رکھیں تو میں عرض کروں ۔ فرمایا بیان تو کیجئے۔ عرض کی حضور وضو میں چار فرض ہیں۔ کہنیوں تک ہاتھ دھونا۔ سر کے بالوں سے تھوڑی کے نیچے تک منھ دھونا۔ چوتھائی سر کا مسح کرنا۔ ٹخنوں سمیت پاؤں دھونا۔ مگر اس سے پہلے ہاتھ دھونا، کلّی کرنا، ناک میں پانی چڑھانا۔ اس کی وجہ کیا ہے میں بہت سے علماء کے پاس گیا۔ مگر ہر ایک نے یہ جواب دیا کہ یہ سنت ہے۔ یہ تو میں بھی جانتا ہوں۔ مگر حضور صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم کا کوئی فعل حکمت و مصلحت سے خالی نہیں تھا۔ اس میں کیا مصلحت تھی ۔ فرمایا علماء نے معمولی مسئلہ جان کر توجہ نہیں فرمائی ورنہ کوئی مشکل بات نہ تھی۔ عرض کی آپ ہی توجہ فرمائیں۔ فرمایا وضو کس سے ہوتا ہے۔ عرض کی پانی سے۔ فرمایا پانی کے شرائط کیا ہیں ؟ عرض کی رنگ، بو، مزا، فرمایا۔ رنگ معلوم کرنے کہ ہاتھ دھوئے جاتے ہیں، مزا معلوم کرنے کے لئے کلّی کی جاتی ہے اور بُو معلوم کرنے کے لئے ناک میں پانی چڑھایا جاتا ہے ۔ جب معلوم ہو گیا پانی ٹھیک ہے فرائض ادا کر لئے جاتے ہیں ۔
(کرامات اعلٰی حضرت صفحہ 31)
(٤) ایک صاحب رامپور سے حضرت  مولانا نقی علی خان رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ(اعلٰی حضرت کے والد ماجد) کا اسم گرامی سن کر آئے اور ایک فتوٰی پیش کیا جس میں جناب مولانا ارشاد حسین صاحب مجددی کا فتویٰ جس پر اکثر علمائے کرام کی مہریں اور دستخط تھے۔ حضرت نے فرمایا کہ کمرے میں مولوی صاحب ہیں ان کو دے دیجئے جواب لکھ دیں گے۔ وہ کمرے میں گئے واپس آکر عرض کیا کہ مولوی صاحب نہیں ہیں فقط ایک صاحب زادے صاحب ہیں۔ حضرت نے فرمایا انہیں کو دے دیجئے وہ لکھ دیں گے۔ انہوں نے کہا حضور میں تو آپ کا شہرہ سن کر آیا ہوں ، حضرت مولانا نقی علی خان رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا۔ آج کل وہی فتویٰ لکھا کرتے ہیں۔ انہیں کو دے دیجئے غرض دیدیا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے جو اس فتویٰ کو دیکھا تو ٹھیک نہ تھا۔ آپ نے اس جواب کے خلاف جواب تحریر فرما کر اپنے والد ماجد کی خدمت میں پیش کیا حضرت مولانا نقی علی خان رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اس کی تصدیق فرمادی۔ وہ صاحب اس فتویٰ کو لے کر رامپور پہنچے جب نواب رامپور کی نظر سے گزرا شروع سے آخر تک اس فتویٰ کو پڑھا ۔ اور مولانا ارشاد حسین مجددی صاحب کو بلایا۔ آپ تشریف لائے تو وہ فتویٰ آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ مولانا ارشاد حسین مجددی صاحب کی حق پسندی و حق گوئی ملاحظہ ہو صاف فرمایا فی الحقیقۃ وہی حکم صحیح ہے جو بریلی شریف سے آیا ہے۔ نواب صاحب نے پوچھا پھر اتنے علماء نے آپ کے جواب کی تصدیق کس طرح کر دی۔ فرمایا ان حضرات نے مجھ پر میری شہرت کی وجہ سے اعتماد کیا اور میرے فتویٰ کی تصدیق کی ورنہ حق وہی ہے جو انہوں نے لکھا ہے یہ سن کر دوسرے یہ معلوم کر کے کہ اعلٰی حضرت کی عمر ۱۹-۲۰ سال کی ہے نواب صاحب کو ملاقات کا شوق ہوا ۔
(کرامات اعلٰی حضرت صفحہ 18 -19)
(5)
فیض صحبت :

ایک مرتبہ حضرت مولانا سید شاہ دیدار علی صاحب قبلہ بریلی تشریف لائے اور تشریف لانے کا سبب اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا شہرہ تھا۔ عصر کا وقت تھا جماعت کھڑی ہو چکی تھی مسجد کے کنویں پر ایک بہشتی لڑکا نابالغ پانی بھر رہا تھا ۔ جلدی کی وجہ سے اسی لڑکے سے پانی طلب فرمایا اس نے کہا مولانا صاحب میرے بھرے ہوئے پانی سے آپ کا وضو نہ ہوگا۔ حضرت مولانا سید دیدار علی صاحب قبلہ کو غصہ آگیا اور فرمایا ہم جب تجھ سے لے رہے ہیں تو کیوں نہیں دیتا اس نے کہا مجھے دینے کا اختیار نہیں میں نابالغ ہوں مولانا سید دیدار علی صاحب قبلہ کو اور غصہ آگیا اور فرمایا ان کا وضو کیسے جائز ہو جاتا ہے جہاں جہاں تو پانی بھرتا ہے اس نے کہا آپ ناراض نہ ہوں وہ لوگ تو مجھ سے مول لیتے ہیں یہ سن کر مولانا سید دیدار علی صاحب قبلہ دنگ رہ گئے کیوں کہ عالِم تھے یاد آگیا کہ از روئے فِقہ یہ بچہ صحیح کہہ رہا ہے فوراً خود پانی بھرا وضو کر کے نماز میں شریک ہوئے نماز سے فارغ ہو کر اعلٰی حضرت کے حضور حاضر ہوئے اور عرض کی کہ حضور میں تو آپ کے متعلق سنا کرتا تھا مگر یہاں آکر معلوم ہوا کہ یہاں کے خدمت گاروں کے بچے بھی مفتی ہیں پھر اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے خلافت و اجازت حاصل کی۔
(کرامات اعلٰی حضرت صفحہ 31 -32)
(6)
شرف بیعت:

جمادی الاولیٰ بارہ سو چورانوے ہجری (۱۲۹٤.ھ) کا ذکر ہے کہ  اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ روتے روتے دوپہر کو سو گئے۔ دیکھا جد امجد حضرت مولانا شاہ رضا علی خان صاحب رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ تشریف لائے ۔ ایک صندوقچی عطا فرمائی اور فرمایا عنقریب آنے والا ہے وہ شخص جو تمہارے درد دل کی دوا کرے گا ۔دوسرے یا تیسرے روز حضرت مولانا عبد القادر صاحب بدایونی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ بدایوں سے تشریف لائے اور اپنے ساتھ مارہرہ شریف لے گئے اور حضرت سید شاہ آل رسول احمد قدس سرہ العزیز کی خدمت میں پہنچے۔ دیکھتے ہی فرمایا آئیے ہم تو کئی روز سے انتظار کر رہے ہیں۔ پھر بیعت فرمایا اور اسی وقت تمام سلاسل کی اجازت بھی عطا فرمادی یعنی خلافت بھی بخش دی اور جو عطیات سلف سے چلے آرہے تھے وہ بھی سب عطا فرمادی اور ایک صندوقچی جو وظیفہ کی صندوقچی کے نام سے منسوب تھی عطا فرمائی اور ان وظائف کی اجازت مرحمت فرمائی یہ دیکھ کر تمام مریدین کو جو حاضر خدمت تھے رشک ہوا اور عرض کی حضور اس بچہ پر یہ کرم کیوں ہوا۔ ارشاد فرمایا اے لوگو تم احمد رضا کو کیا جانو یہ فرما کر رونے لگے اور ارشاد فرمایا۔ قیامت کے دن رب العزت جَلَّ وعلٰی ارشاد فرمائے گا کہ آلِ رسول تو دنیا سے کیا لایا۔ تو میں احمد رضا کو پیش کروں گا (یا یہ فرمایا کہ) یہ چشم و چراغ خاندان برکات ہیں اوروں کو تیار ہونا پڑتا ہے یہ بالکل تیار آئے تھے انھیں صرف نسبت کی ضرورت تھی ۔
(کرامات اعلٰی حضرت صفحہ 20 -21)
طالبِ دعا:-
اسیر تاج الشریعہ
عبد الوحید قادری
امن نگر بلگام کرناٹک

نوٹ:-
ٹائپنگ(لکھنے)میں اگر کوئی غلطی پائیں تو فورًا مطّلع فرمائیں نوازش ہوگی
9916313403

Post a Comment

0 Comments